سائنسدانوں نے سمندر کے اندر بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

 
سائنسدان نے سمندر کے اندر بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

سائنسدان نے سمندر کے اندر بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

محترم دوستو بلیک ہول ایک ایسا معمہ ہے جنہیں حل کرنے سے سائنسدان ابھی تک قاصر نظر آتے ہیں، اور ان پر اسرار مظاہر کے بارے میں محض اتنا جان پائے ہیں کہ یہ زمان و مکان کے پردے میں ایسے شگاف ہیں جو قریب آنے والی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں، اور ان کے شکنجے سے کوئی چیز بھی نہیں بچ پاتی یہاں تک کہ روشنی بھی نہیں جب کہ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے بالکل یہی خصوصیات زمین پر جنوبی بحر و اقیانوس میں بھی دریافت کرلی ہے۔ اور ہماری آج کی پوسٹ کا موضوع بھی سمندر میں دریافت ہونے والے بلیک ہول ہے۔

جس کی دریافت نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی ہے اور سینکرو سوالوں نے جنم لے لیا ہے۔

 بلیک ہول بحر و اقیانوس میں دریافت کیا گیا ہے۔

محترم دوستو: یہ بلیک ہول بحر و اقیانوس میں دریافت کیا گیا ہے۔ اور باقاعدہ ناسا کی جانب سے اس کی تصویر بھی شائع کی گئی ہے، جب کہ جرمنی میں واقع E.T.H ایوینیو نیورسٹی اور امریکہ کے میامی یونیورسٹی کے محققین کے مطابق سمندر کے اس حصے میں آنے والا بڑا بلیک ہول حسابی طور پر خلاء میں موجود پراسرار بلیک ہولز کے مساوی ہے جس کا مطلب ہے یہ بلیک ہول پانی کے ساتھ وہی سلوک کرے گا جو بلیک روشنی کے ساتھ روا رہتا ہے اور سمندر میں ظاہر ہونے والا یہ بلیک ہول اپنے اطراف گردش پانی سے اس انداز سے گھرا ہوا ہے کہ بھور میں آنے والی کوئی بھی چیز اس سے بچ کر نہیں نکل پا رہی،  سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ سمندری بھور گرم آب وہوا کی وجہ سے پگھلتی ہوئی برف کے منفی اثرات کو محدود کر سکتا ہے تاہم فی الحال اس اثر کی شدت کو ناپنے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ اس بلیک ہول کے گرد پانی کی حدود ابھی تک ان کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے ہے مگر میامی یونیورسٹی میں اوشنو گرافی کے پروفیسر فرانسیسکو بیرو اورE.T.H ایوینیو نیورسٹی غیر خطی حرکیات کے پروفیسر جارج ہیلر کو یقین ہے کہ وہ معمہ حل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ کیونکہ وہ وہ ریاضتی نمونوں کی مدد سے انھوں نے مصنوعی سیارے کے ذریعے کے گئے مشاہدات کے سلسلے میں اس بلیک ہول کی تصاویر اور دیگر ڈیٹا کو علیحدہ کیا۔

دوران تحقیق جب یہ بھور بلیک ہولز کے حساب مترادف نکلا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس میں تمام خصوصیات وہی پائی گئی جو بلیک ہولز میں موجود ہوتی ہیں۔ لیکن سائنسدانوں کے حالیہ دریافت سے موسمی تغیرات سے جڑے سوالوں سے لے کر ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کے طریقوں تک کئی الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے کی امید پیدا ہوگئی ہے، اسی حوالے سے سائنسدانوں اور ماہر گوتا کھورو کا ایک گروپ سمندر کے حوالے سے انسانی معلومات میں نیا اضافہ کرنے کے لئے تیار ہے جو اس جگہ پہنچ کر یہ جاننا چاہتا ہے کہ آخر یہ بلیک ہول یہاں کیسے وجود میں آیا اور اس کی وجہ سے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ لہذا چارج انسٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور اور یو ایس جیولوجیکل سروے کے ماہرین کی ٹیم سمندر کی سطح سے بھی نیچے چھپے  پیک ہول کی کھوج فلوریڈا کے گلف میں کھوج کرنے والی ہے۔ ماہرین کی جانب سے اس بلو ہول کو گرین بنانا نام دیا گیا ہے جو سمندری سطح سے 105 پیچھے موجود ہیں جب کہ اس سراخ کی گہرائی 425 فٹ ہے۔ جاری ہے

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی