انسانی تاریخ کا وہ ہاتھی جسے سرعام پھانسی پر لٹکا دیا گیا

انسانی تاریخ کا وہ ہاتھی جسے سرعام پھانسی پر لٹکا دیا گیا


ایک ہاتھی کی دردناک اردو کہانی

دوستو پھانسی کو سزا کے ایک ذریعے کے طور پر کئی سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے- آپ نے انسانوں کے بارے میں تو یہ ضرور سنا ہوگا کہ انہیں ان کے جرائم کی سزا دینے کے لیے پھانسی دی جاتی ہے۔ مگر کیا ایک ہاتھی کو سرعام پھانسی دینے کے حوالے سے کبھی آپ نے سنا؟ جی ہاں! تاریخ میں ایک حتمی ایسی بھی تھی جسے سرعام اڑھائی ہزار افراد کے سامنے پھانسی دی گئی۔ آخر اس بے زبان جانور کا قصور کیا تھا؟ کیا زمانہ قدیم میں جانوروں کو بھی ایسے ہی سزائیں دی جاتی تھی۔ آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ کو یہی سب کچھ بتائیں گے۔ لہذا آپ سے گذارش ہے کہ پوسٹ کو آخر تک ضرور پڑھیے گا۔

محترم دوستو: کہانی کا آغاز ہوتا ہے آج سے تقریبا ایک سو چار سال پہلے سن 1916 کی بات ہے جب امریکہ سرکس بے حد مشہور تھا اور دور دور سے لوگ اسے دیکھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔ دسمبر کے مہینے میں اس سرکس کے لیے (mary the elephant) میری نامی ایک حتمی کو لایا گیا تاکہ اس کے حیرت انگیز کرتکوں سے شائقین لطف اندوز ہو سکے اس ہاتھی کی دیکھ بھال کے لئے ایک شخص کو رکھا گیا جو کہ ہوٹل ورکر تھا۔ اور اسے جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا اس شخص کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہاتھی کو قریب والے تالاب پر لیجا کر پانی پلائیں اور اسے گھمائے پھر آئے دوستو ایک دن تالاب پر جاتے ہوئے راستے میں ہاتھی کو خربوزے کا ایک ٹکڑا نظر آیا جسے کھانے کے لیے وہ اچانک نیچے بیٹھ گئی یہ دیکھ کراس شخص سے صبر نہ ہوا اور ہاتھی کو جلدی اٹھانے کے لئے اس نے ایک چھڑی ہاتھی کے کان کے پیچھے دے ماری نگران کی اس حرکت سے ہاتھی انتہائی اشتعال میں آ گئی ہاتھی نے اس شخص کو اپنے سور میں جکڑا اور اسے اٹھا کر بری طرح ایک درخت پر دے مارا اس کے بعد اس نے اپنے بھاری بھرکم پاؤں سے نگران کا سر کچل دیا عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نگران کو اس کے انجام تک پہنچانے کے بعد میری بالکل پر سکون ہو گئی اور اس نے مزید کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ لیکن وہاں موجود افراد نے ایک طوفان برپا کر دیا اور زور زور سے چلانے لگے کہ اس ہاتھی کو مار ڈالو، حتیٰ کہ وہاں پر موجود ایک سپاہی نے ہاتھی پر گولیاں بھی چلائیں تاہم وہ گولیاں ہاتھی کو کوئی بڑا نقصان پہنچانے میں ناکام رہیں۔

محترم دوستو: یہ واقعہ جنگل میں لگی آگ کی طرح بڑی تیزی سے پھیل گیا مقامی افراد نے یہ مطالبہ شروع کردیا کہ ان کے گھروں کے قریب سے ایسی سرکس کو ہٹا دیا جائے جس میں ایک مست ہاتھی موجود ہے جو کسی بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ ہاتھی اس سے قبل بھی اپنے کئی نگران کو قتل کر چکی ہے۔ جس سے مقامی آبادی مزید خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئی جب اس سر کس کے ساتھ داؤ پر لگ گئی تو سرکس کے مالک چارلی نے اہم قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا لوگوں کے خوف کو دبانے اور سرکش کو بچانے کے لئے اس نے اعلان کروا دیا کہ قاتل ہاتھی میری کو سرعام پھانسی دی جائے گی، بالآخر اس ہاتھی کو قریبی بستی برون لے جایا گیا جہاں اس کی پھانسی کو دیکھنے کے لیے اڑھائی ہزار لوگ جمع تھے، دوستو ہاتھی کے گلے کے گرد ایک مضبوط دھاتی زنجیر بندھیں گی اور اسے کرین کی مدد سے اوپر اٹھایا جانے لگا لیکن ابھی میری ذرا ہی اوپر اٹھی تھی کہ زنجیر ٹوٹ گئی اور ہاتھی زور دار دھماکے کے ساتھ نیچے گر پڑی نیچے گرنے سے ہاتھی کا ایک پاؤ اور گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ اس منظر کو دیکھ کر اس موقع پر موجود کئی افراد اور بچے خوفزدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے تاہم پھانسی کا عمل تو ابھی باقی تھا کسی کو بھی اس بے زبان جانور پر ترس نہ آیا بالآخر ایک اور مضبوط زنجیر لائی گئی اور اس کے ذریعے ہاتھی کو پھانسی دے دی گئی جو کہ کامیاب رہی ہاتھی آدھے گھنٹے تک زیر کے ذریعہ کرین سے لٹکتی رہیں حتی کہ اسے مردہ قرار دے دیا گیا اور وہاں موجود لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ پھانسی کے بعد ہاتھی کو قریب واقع ریل کی پٹڑیوں کے قریب دفن کر دیا گیا اور اس جگہ کو قاتل میری ہاتھی کی قبر کے نام سے پکارا جانے لگا۔ ہاتھی میری موت کو 20 صدی میں جانوں پر سرکس کے لیے ہونے والے ظلم کی بدترین مثال قرار دیا جاتا ہے۔ دوستو میری موت بھی بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے فائدے کے لیے ہی سوچتا ہے اور اپنے مقاصد کی خاطر انسان کچھ بھی کر سکتا ہے چاہے اسے اپنے ضمیر اور انسانیت کو مارنا ہی کیوں نہ پڑ جائے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی