دنیا میں انسانوں سے پہلے کیا تھا؟ حضرت آدم سے پہلے دنیا میں کیا تھا؟



دنیا میں پہلے کون سی مخلوق رہتی تھی؟

السلام علیکم دوستو میں ہوں محمد وقاص: محترم دوستو: دنیا بھر کے تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا، لیکن دوستو: آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا، اور دیکھا ہوگا، کچھ ماڈل زمانے کے لوگ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں اور کرتے ہیں کہ دنیا کے وجود میں آنے سے پہلے اس جہان میں کیا تھا؟ اس دنیا میں سب سے پہلے حضرت آدم اور حوا علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ لیکن ان کی پیدائش سے پہلے یہاں پر کیا کوئی رہا کرتا تھا؟ انسان تھے یا پھر جنات یا پھر کوئی اور مخلوقات یہاں پر موجود تھی، دوستو: اس حوالے سے ہمیں مختلف آراء سننے کو ملتی ہیں لیکن حقیقت کیا ہے؟ کس طرح یہ دنیا بنی اور یہاں پر کیا کیا ہوا کرتا تھا؟ قرآن کریم اس حوالے سے ہماری کیا رہنمائی فرماتا ہے؟ اور قرآن کریم کے مطابق اللہ تعالی نے اس زمین کو کتنے دنوں میں پیدا فرمایا ہے یہ تمام معلومات آج آپ کے ساتھ اس پوسٹ میں شیئر کریں گے۔

سائنسدان اور لوگوں کے نظریات دنیا میں انسانوں سے پہلے کون رہا کرتا تھا؟

لیکن دوستو: اس سے پہلے آپ کو کچھ اس سے جڑی نظریات بتاتے چلیں۔ کچھ لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے اس دنیا میں جنات کا بسیرا ہوا کرتا تھا یہاں اونچے اونچے پہاڑ اور کچھ علاقوں میں میدان موجود تھے۔ اور وہ جنات یہاں پر اپنی زندگی گزرا کرتے تھے ان کے خاندان اور بڑے بڑے قبیلے یہاں پر رہا کرتے تھے۔ جبکہ کچھ سائنسدانوں اور عیسائیوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے ڈائناسور رہا کرتے تھے۔ جو ہزاروں سال پہلے انسانوں کی آمد سے پہلے اس زمین پر آباد تھے لیکن انسانوں کی آمد کے ساتھ ساتھ ان کی نسلیں ختم ہونے لگی جبکہ کچھ اور لوگوں کے مطابق زمین خلائی مخلوق کا مرکز ہوا کرتا تھا۔

لیکن دوستو: اس حوالے سے حقیقت کیا ہے؟ ہم آپ کے ساتھ اس پوسٹ میں شیر کرتے ہیں۔ اور سب سے پہلے آپ کو بتاتے ہیں اس دنیا کو اللہ رب العالمین نے کتنے دنوں میں پیدا فرمایا ہے۔ سورہ ھود آیت نمبر 7 میں ارشاد فرماتا ہے: اور اللہ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ابورزین عقیلی روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے سوا کچھ بھی نہ تھا نہ اس کے اوپر ہوا تھی، نہ اس کے نیچے ہوا تھی مطلب یہ ہے کہ کچھ نہ تھا، پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔ گویا یہ تھی مخلوقات کی ابتدا حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ بلاشبہ اللہ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا پھر اللہ نے اس کو حکم دیا لکھ چنانچہ وہ اسی وقت چل پڑا اور قیامت کے دن تک ہونے والی ہر چیز لکھتی یہ اللہ تعالی کا علم تھا جس کو قلم نے اس کے حکم کے مطابق لوح محفوظ پر لکھا حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے سنا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوقات کی تقدیروں کو لکھ دیا اور اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا اس حدیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ سب سے پہلے پانی پھر پانی پر عرش کی تخلیق ہوئی، پھر قلم کے فورا بعد لوح  محفوظ کو پیدا کیا گیا جس پر سب کچھ جو قیامت تک ہونے والا تھا لکھ دیا گیا پھر کائنات کی باقی مخلوقات آسمان و زمین کی پیدائش وجود میں آتی گئی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا کہ جب دنیا بنی تو ان کی ترتیب کچھ یوں تھی، اللہ تعالی نے ہفتے کے دن مٹی کو پیدا کیا اتوار کے دن زمین میں پہاڑ پیر کے دن درخت منگل کے دن تکالیف مصائب جراثیم اور بیماریاں اور بدھ کے دن نور کو جمعرات کے دن زمین میں چوپایوں کو پھیلا دیا گیا اور جمعہ کے دن کی آخری گھڑی یعنی عصر سے رات  کے درمیان تک حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ ابتدائی مخلوقات کی ترتیب کیا تھی ان میں سب سے آخری نمبر حضرت آدم علیہ السلام کا تھا جب کہ آدم علیہ السلام نسل انسانی میں سب سے پہلے اور تمام انسانوں کے باپ ہیں جب کہ انسانوں سے پہلے فرشتے اور جن پیدا ہوچکے تھے صاحب عقل مخلوقات میں سب سے پہلا نمبر فرشتوں کا، دوسرا نمبر جنوں کا، اور آخری نمبر انسانوں کا ہے فرشتوں کی تخلیق کے بعد جنوں کو بھی انسانوں سے پہلے پیدا کیا گیا تھا جیسا کہ اللہ پاک سورہ الحجر آیت نمبر 27 میں ارشاد فرماتا ہے اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا جنات کے بارے میں دوست کو آتا ہے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے جنات پیدا کیے گئے وہ ہماری اس زمین پر آباد تھے مگر آہستہ آہستہ وہ فتنہ فساد میں مبتلا ہوگئے اور وہ جب حد سے آگے بڑھ گئے اور نہ حق خون بہانے لگے تو اللہ نے ان کی طرف فرشتوں کا ایک عظیم لشکر بھیجا جس سے جنات کے زبردست معرکہ آرائی ہوئی اس معرکہ آرائی میں فرشتوں نے جنات کو تہس نہس کر دیا اور وہ پناہ لینے کے لیے سمندر کے جزیروں جنگلات اور پہاڑوں پر چلے گئے زمین کے ہرحصے سے نکال دیا گیا۔ چنانچہ آج تک ان کے رہنے کی جگہ یہی جزیرے جنگلات اور پہاڑ ہیں۔ اس واقعہ کے 2000 سال بعد اللہ نے حضرت آدم اور حوا علیہ السلام کو زمین پر اتارا اور پھر ان سے تمام انسانیت کی نسلیں چلی، اور ایسے ہی ایک دن اللہ رب العالمین اس زمین پر انسانوں کو دیا وقت ختم کر دے گا۔ اور جیسے یہ دنیا بنی ایک دن ویسے ہی ختم ہو جائے گی آخر میں دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو موت سے پہلے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین

یہ بھی پرھیں:حضرت یوسف علیہ السلام کو دریا میں کیوں دفن کیا گیا تھا؟


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی