ایک فقیر بابا اللہ کے نیک بندے کی سبق آموز اردو کہانی

اردو کہانی


اللہ کے نیک بندےفقیربابا کے اردو سبق آموز کہانی

دوستوں بہرات میں غیر مسلموں کا ایک پورا گاؤں آباد تھا۔ جہاں رہنے والے تمام لوگ دین حق سے غافل تھے۔ جو اللہ کی وحدانیت کو پہچانتے نہیں تھے، مگر دوستو اللہ جب کسی پر اپنی کرم نوازی کرنا چاہتا ہے تو وہاں اپنے نیک بندے کو بھیج دیتا ہے۔ یہ سبق آموز اردو کہانی ہے اس کو ضرور پڑھیں:

جب ایک فقیر بابا کا اس گاؤں سے گزر ہوا اور وہ اس گاؤں میں داخل ہوگئے۔

اس گاؤں کے لوگ بہت گھمنڈی اور لالچی تھے۔۔ جب بوڑھے فقیربابا کو انہوں نے دیکھا تو ان کا مذاق اڑانے لگے، اس اللہ کے نیک بندے نے یہ سب برداشت کیا کیونکہ ان کو ان تمام لوگوں پر بڑا رحم آ رہا تھا کہ یہ لوگ کس جہالیت اور اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس فقیر بابا نے اسی گاؤں میں ایک جگہ پر اپنا پڑاؤ ڈال دیا، لوگوں کو یہ بات بڑی ناگوار گزری اور کہنے لگے کہ آپ ایک انجان انسان ہو یہاں سے صرف گزر رہے تھے تو کیا آپ ہمارے گاؤں میں رہنے لگیں گے آپ نے کچھ نہیں کیا اور خاموشی سے اس جگہ رہنے لگے روکھی سوکھی کھا کر دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے۔۔۔

اس گاؤں کے لوگ کسی بت کی پوجا کرتے تھے، اس کو ہی اپنا سب کچھ مانتے ہوئے اس کی عبادت کیا کرتے تھے، دن رات اس کے آگے سجدے میں جھکے رہتے تھے اور اسی سے مدد مانگتے تھے،، فقیر بابا کو جب وہ لوگ عبادت کرتے ہوئے اتنے طویل سجدے میں دیکھتے تو حیران ہوتے ہوئے پوچھتے ہیں کہ تم کس کی عبادت کر رہے ہو تم کس کے آگے اپنا سر جھکا رہے ہو تمہارے سامنے تو کوئی بھی نہیں ہے تم کس سے مدد مانگتے ہو وہ اللہ کا نیک بندہ ان لوگوں سے کہتا ہے کہ میں اس پروردگار کی عبادت کرتا ہوں کہ جو اس تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے جس نے مجھے بھی بنایا ہے اور تم لوگوں کو بھی بنایا ہے تم لوگ جس بت کو پوجتے ہو جس کے آگے تم سر جھکاتے ہو، وہ تمہاری کوئی مدد نہیں کرنے والا ہے ابھی بھی وقت ہے سدھر جاؤ، جو کچھ تم جمع کر رہے ہو اپنے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گے یہ لالچ اور غرور چھوڑ کر اللہ کے نیک راستے پر آ جاؤ اس ہدایت کے باوجود وہ لوگ ان کی بات بالکل نہیں مانتے تھے، بلکہ الٹا ہیں وہ لوگ ان کو یہ برا بھلا کہتے تھے آخر اس نافرمانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اس بستی پر ایک خونخوار شیر مسلط فرما دیا جو بچوں کو اٹھا کر لے جاتا تھا اس وقت یہ بزرگ بابا اللہ کی عبادت میں مشغول تھے۔ اسی دوران گاؤں میں ایک شور اٹھا کہ کسی عورت کے بچے کو ایک شیر اٹھا کر لے گیا ہے وہ اتنا خطرناک اور خونخوار تھا کہ ہر کوئی اس سے ڈر رہا تھا، اور وہ عورت جس کا بچہ شیر اٹھا کر لے گیا تھا وہ بے حال تھی اور کہہ رہی تھی کہ کوئی تو میرے بچے کو بچا لاؤ کوئی تو آکر میری مدد کرو جب اس اللہ کے نیک بندے نے لوگوں کی بے درد بھری آواز سنی تو ان لوگوں کے پاس گئے اور معلوم کیا کہ آخر کیا ماجرہ ہے؟

تو لوگوں نے بتایا کہ ایک بچے کو ایک شیر اٹھا کر لے گیا ہے۔۔ یہاں پر کوئی ایسا بہادر نہیں ہے جو اس کا مقابلہ کر سکے تو فقیر بابا نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے میں تمہارے بچے کو بچا کر لاتا ہوں یہ بات سن کر وہ لوگ ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ اس عمر میں آپ اس خونخوار درندے کا کیسے مقابلہ کریں گے؟ اس فقیر بابا نے کہا تھا کہ مجھے اللہ کی ذات پر پورا یقین اور بھروسہ ہے وہی زندگی اور موت دینے والا ہے وہ میری مدد ضرور فرمائیے گا یہ سن کر اس بچے کی ماں کہنے لگی کہ بابا اگر آپ میرے بچے کو شیر سے بچا لائے تو میں آپ کا دین قبول کر لوں گی اور آپ کے بتائے ہوئے راستے پر چلونگی اللہ کے اس نیک بندے نے تھوڑا وقت مانگا آپ چل کر اس جگہ پہنچے جہاں وہ شعر اس بچے کو لے کر ایک غار میں گیا تھا۔۔

اب تک اس شیر نے اس بچے کو نہیں کھایا تھا،، جب آپ غار کے قریب پہنچے تو بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے اے رب تو ہی طاقت اور ہمت دینے والا ہے جو تو چاہے کروا سکتا ہے تو شیر کے دل میں ہماری محبت ڈال دے۔ اللہ نے اپنے اس نیک بندے کی دعا قبول کی اور وہ شیر اس بچے کو چھوڑ کر جیسے ہی آپ کی طرف حملہ کرنے کے لیے پڑھا تو ایسی نگاہ کرم اللہ کے اس نیک بندے کی کہ وہ شیر حملہ تو کیا کرتا وہ تو آپ کے قدموں میں آکر لپٹ گیا اور ہمیشہ کے لئے آپ کا غلام ہو گیا لوگ سمجھ رہے تھے کہ وہ فقیربابا اب واپس نہیں آئیں گے اس بچے کی ماں کا رو رو کر برا حال تھا اتنے میں وہ لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ کا نیک بندہ آ رہا ہے جس کے ساتھ ایک شیر اور وہ بچہ بھی صحیح سلامت ہے جب لوگوں نے یہ سب دیکھا تو کہنے لگے کہ اب ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں اور اس پورے گاؤں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ دوستو اصل میں فقیر وہ ہوتا ہے کہ دنیا اس کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی وہ اپنی پوری زندگی اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں فنا کر دیتا ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی