حضرت یوسف علیہ السلام کو دریا میں کیوں دفن کیا گیا تھا؟ آپ علیہ السلام کے تابوت مبارک

حضرت یوسف علیہ السلام


حضرت یوسف علیہ السلام کے تابوت کو دریا سے کیوں نکالا گیا؟

اور یوسف علیہ السلام کو دریا میں کیوں دفن کیا گیا تھا؟

السلام علیکم دوستو میں ہوں محمد وقاص۔ حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے ایک برگزیدہ پیغمبر ہیں، آپ کا ذکر قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے لیکن آپ کی وفات اور تدفین کے حوالے سے قرآن مجید میں واضح ذکر موجود نہیں جب کہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دریائے نیل میں دفن کیا گیا تھا۔اب سوال یہ ہے دوستو آخرکار آپ علیہ السلام کو دریائے نیل میں کیوں دفن کیا گیا؟ اور کیا اب بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک دریائے نیل میں موجود ہے یا پھر زمین کے کسی اور حصے پر، آج ہم اسی کے متعلق آپ کو بتائیں گے۔

لہذا آپ سے گذارش ہے کہ تحریر کو آخر تک ضرور پڑھیں: دوستو حضرت یوسف علیہ السلام کا زمانہ کم و بیش دو ہزار سال قبل از مسیح بتایا جاتا ہے آپ کا تعلق انبیاء علیہ السلام کے خاندان سے تھا آپ کے والد گرامی حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے برگزیدہ اور جلیل القدر نبی تھے، آپ کے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام اور آپ کے پردادا حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے، آپ کی والدہ ماجدہ کا نام راحیل بنت لابان تھا والدین کو آپ سے بے پناہ محبت تھی گیارہ سال کی عمر سے ہی نبوت کے آثار واضح ہونے لگے تھے، اللہ نے آپ کو بے پناہ خوبصورتی اور حسن و جمال سے نوازا تھا، قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کے نام سے ایک مکمل سورہ منسوب ہے جس میں بچپن سے لے کر مصر کا بادشاہ بننے تک کا تذکرہ موجود ہے، آپ کے قصے کو قرآن مجید میں احسن القصص کہا گیا ہے جب اللہ نے آپ کو عزیز مصر بنایا تو آپ علیہ السلام کے اخلاق اور برکات کی وجہ سے ہر کوئی آپ علیہ السلام سے محبت کر کرنے لگا یہاں تک کہ مصر کا بادشاہ بھی آپ علیہ السلام سے مشورہ کیے بغیر کوئی کام کو انجام دیتا اسی دوران جب ساری دنیا میں قہت برپا ہوا اور آج کے تمام ذخیرے بھی ختم ہو چکے تھے لیکن اس وقت بھی اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ السلام کے صدقے مصر کو خوشحال رکھا، یہاں تک کے لوگ دور دراز سے اناج خریدنے کے لیے مصر میں آیا کرتے یہی وجہ تھی کہ مصر کے لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کو سلطنت مصر کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے فیس وبرکاتہ والا مانتے تھے۔ جب آپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام اس دنیا فانی سے پردہ فرما گئے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو ان کی وصیت کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے تمام تر معاملات سنبھالتے رہے مصر کا ہر شخص آپ کو برکت کا باعث سمجھ نے لگا تھا۔ جب آپ علیہ السلام بھی اس دنیائے فانی سے رخصت ہونے لگے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کے مقامے دفن میں سخت اختلاف پیدا ہوگیا ہر محلےوالا حصول برکت کے لیے اپنے ہی محلے  میں دفن پر اصرار کرنے لگا آخر کار دوستو اس بات پر سب کا اتفاق ہو گیا کہ آپ کو بیچ دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ دریائے نیل کا پانی آپ کی قبر منور کو چھوتا ہوا گزرے اور تمام مصر والے آپ کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہوتے رہیں۔ چنانچہ آپ کو سنگ مرمر کے ایک خوبصورت صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے بیچ میں دفن کیا گیا آپ علیہ السلام نے اپنی وفات سے پہلے ہی وصیت کی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب میرے خاندان کے لوگ یہاں سے ہجرت کر جائیں گے اور جب وہ ہجرت کرنے لگے تو میرے تابوت کو یہاں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں اور میرے بابا حضرت یعقوب علیہ السلام کے پہلو میں دفن کر دیں۔

دوستو ایسے ہی وقت گذرتا رہا اور دور بدلتا رہا یہاں تک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام نے آپ کےتابوت شریف کو دریائے نیل سے نکال کر آپ کے آباؤ اجداد کی قبروں کے پاس ملک شام میں دفن فرمایا: وقت وفات آپ کی عمر شریف کے ایک سو بیس برس کی تھی اور اس وقت آپ کی قبر مبارک مسجد خلیل فلسطین میں موجود ہے۔


ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی