لاکڈاؤن کےخلاف احتجاج۔ کئی جگہوں پر لوگ سڑک پر اتر کر لاکڈاؤن کے خلاف احتجاج کررہےہیں

 لاکڈاؤن کےخلاف احتجاج

لاکڈاؤن کےخلاف احتجاج

 

اچھی خبر یہ ہیکہ کئی جگہوں پر لوگ سڑک پر اتر کر لاکڈاؤن کے خلاف احتجاج کررہےہیں، 

اور شرمناک یہ ہیکہ مساجد کے مائیک کو بزدلی کا بدترین مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری لاکڈاؤن کی حمایت کیلیے استعمال کیا جارہاہے، عام آدمی تنگ آچکاہے لاکڈاؤن سے، غریب مزدور دوکاندار بائیک و موٹر سوار قدم قدم پر جرمانہ بھر بھر کے تنگ آچکاہے، کرونا کےنام پر لاکڈاؤن سے لیکر جرمانہ کے قوانین تک سبھی انسانیت پر بدترین اور بےرحم ظلم ہیں، جو لوگ ان کی ادنیٰ سی بھی تائید کرتےہیں وہ معاشرے کے سب سے گھٹیا ترین لوگ ہیں، میں لاکڈاؤن کی مخالفت سختی سے اسلیے کرتاہوں کہ میں نے کرونا سے تو نہیں لیکن لاکڈاؤن کی وجہ سے بیشمار انسانوں کو تڑپتے سسکتے مرتے دیکھا ہے

 کرونا سے بچنے اور بچانے کیلیے کوئی بھی ترتیب لائیے جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری کریے لیکن اب ہمیں تالہ بندی جیسی پابندیاں ہرگز قبول نہیں ہیں ۔

اگر ایک اور بار بھارت میں لاکڈاؤن لگانے کی غلطی کی گئی تو انارکی بھکمری اور خودکشی میں ایسا اضافہ ہوگاکہ ملک میں جہنم کا نظارہ ہوگا 

 اب رمضان بھی قریب آرہا ہے،.

 چنانچہ اسی بہانے ایک اور رمضان المبارک لاکڈاون کی نحوست کی نذر ہوجائے گا، نائٹ کرفیو تو اسی لیے ہے۔

 کچھ حد سے زیادہ انٹلکچوئل اور کرپٹ سرکاروں کے فرمانبردار لوگ ہیں جنہوں نے پچھلی دفعہ بھی سیاسی لاکڈاون کو مسلط کرنے میں حکومت کو سہارا دیا تھا وہ ایک بار پھر لاکڈاؤن قبول کروانے کے لیے اپیلیں لگائیں گے یا ماحول بنائیں گے، ایسے انٹلکچوئل ٹائپ دانشوروں اور تنظیموں سے سوشل۔ڈسٹینس ابھی سے بنالیں، یاپھر ان کے خلاف بھی کوئی ترتیب بنا لیجیے ان کے گھروں کے سامنے پہنچ کر ان سے اپنا خرچہ طلب کریں، 

 لاکڈاؤن اور کرونا کی حمایت کرنے والے

 ان لوگوں کے گھروں میں ایک وقت کا فاقہ تو درکنار لاکڈاؤن میں بھی ان کے کاروبار پر بھی اثر نہیں پڑتا، اسلیے ایسے لوگ اگر کہیں اپیل کرتے نظر آئیں تو فوراﹰ اپنا سابقہ لاکڈاؤن کا نقصان اور آئندہ لاکڈاؤن کی ضروریات مرتب کرکے ان کے پاس پہنچ جائیں، ہزاروں لاکھوں غریب لوگوں کے کھانے پینے اور کمائی کا حساب کتاب ان کے سامنے رکھ کر ان سے مطالبہ کریں کہ اگر تم لاکڈاؤن چاہتے ہو تو پہلے یہ ذمہ داریاں اٹھاو یا حکومت سے ادا کرواؤ 

 اور یقینًا لاکڈاؤن کی تباہ کاریاں جس نے بھی چل پھر کر دیکھی ہوگی وہ لاکڈاؤن کو عمومی سزائے موت سے کم نہیں سمجھے گا، اور ہرقیمت پر اس کی مخالفت کرےگا

 اور اب سرکار کو یہ پیغام بالکل واضح اور دوٹوک دے دیجیے کہ اگر وہ لاکڈاؤن کرنا چاہتی ہے تو یہ سمجھ لے کہ ان کا ایسا سیاسی اہداف سے بھرپور غیر مرتب لاکڈاؤن اب بالکل بھی قبول نہیں ہوگا


 مجھے بہت افسوس ہوا کل ممبئی کی کئی مساجد کو بند کرنے کا اعلان سن کر اور آج جب ممبئی کے کئی علاقوں میں لاکڈاؤن کیخلاف سڑک پر شہریوں کے احتجاج کو دیکھا تو خوشی ہوئی، مساجد بند کرنے کا اعلان سن کر افسوس اسلیے ہوا تھا کہ باقاعدہ ان کے مائک سے نشر ہورہے اعلامیہ میں یہ جملہ شامل تھا کہ: " سرکار جو بھی کہے تمام مسلمان اس پر راضی رہیں "

یقینًا یہ جملہ تو سرکار نے مسجد کے ذمہ داروں سے کہنے کیلیے جبر نہیں کیا ہوگا، یہ تو اپنے معاشرے کی بزدلی، اور سرکار پرستی ہے، لیکن ایسے ذمہ داروں کا احتساب کرنے والے نوجوان کہاں ہیں؟ 

Post a Comment

أحدث أقدم